ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہوناور میں سرجری کے بعد مریض کی موت کا سبب ڈاکٹروں کی لاپروائی نہیں - انڈین میڈیکل اسوسی ایشن نے ڈاکٹروں کی حمایت میں کیا احتجاجی مظاہرہ

ہوناور میں سرجری کے بعد مریض کی موت کا سبب ڈاکٹروں کی لاپروائی نہیں - انڈین میڈیکل اسوسی ایشن نے ڈاکٹروں کی حمایت میں کیا احتجاجی مظاہرہ

Tue, 29 Aug 2023 21:05:32    S.O. News Service

ہوناور 29 / اگست (ایس او نیوز) ہوناور کے سری دیوی اسپتال میں آپریشن کے بعد منی پال اسپتال لےجاتے وقت محمد آصف نامی جس شخص کی موت واقع ہوئی تھی اس ضمن میں اسپتال والوں نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ  اس معاملے کا تعلق ڈاکٹر یا اسپتال کی لاپروائی سے بالکل نہیں ہے ۔

    ہوناور کے مشہور اسپتال سری دیوی میں ڈاکٹروں کی لا پروائی سے آصف کی موت واقع ہونے کا الزام لگائے جانے کے خلاف انڈین میڈیکل اسوسی ایشن (آئی ایم اے) کی تعلقہ یونٹ اور انڈین ڈینٹسٹ ایسوسی ایشن کی قیادت میں پیر کو پرائیویٹ اسپتالوں کے ڈاکٹروں نے او پی ڈی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاجی مظاہرا کیا ۔ 

    مظاہرین نے سری دیوی  اسپتال سے جلوس کی شکل میں تحصیلدار آفس تک ریلی نکالی اور تحصیلدار کو  میمورنڈم دیا جس میں کہا گیا ہے کہ کرناٹکا حکومت کے 2009 کے قانون کے مطابق کسی بھی اسپتال کی عمارت یا ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں یا عملے  پر حملہ کرنے اور نقصان پہنچانے پر ملزم کو 3 سال کی قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ کی سزا لاگو ہوتی ہے ۔ اس کے باوجود ڈاکٹروں پر حملے کے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں ۔ آصف کی موت ڈاکٹروں کی لا پروائی کی وجہ سے نہیں ہوئی ہے ۔ اس معاملے میں ہم لوگ عدالتی تحقیقات کے لئے تیار ہیں ۔ ہم تحقیقات میں ہر طرح سے تعاون دینے کے لئے تیار ہیں ۔ ڈاکٹروں کو ڈر اور خوف سے بالاتر ہوکر اپنے فرائض انجام دینے کے لئے ماحول سازگار بنانے میں عوام کو تعاون کرنا چاہیے ۔

اخبارنویسوں  سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایم اے تعلقہ یونٹ کے صدر ڈاکٹر وشال نے کہا کہ آصف کا آپریشن 20 اگست کو ہوا تھا جبکہ اس کی موت 23 اگست کو ہوئی ہے ۔ ایسے میں سرجری کرنے والے ڈاکٹر کی لاپروائی کا سوال کہاں پیدا ہوتا ہے ۔ مریض کی موت ایک دکھ بھرا واقعہ ہے ، لیکن اس میں ڈاکٹر کی لاپروائی کا ہاتھ نہیں ہے ۔ 

    سری دیوی اسپتال کے چیف ڈاکٹر چندر شیکھر شیٹی نے کہا کہ ہمارے اسپتال میں محمد آصف کا آپریشن فادر مولر ہاسپٹل منگلورو کے یورو سرجن ڈاکٹر کشن راج نے کیا تھا ۔ مریض کو 23 اگست کو ڈسچارج کیا گیا ۔ اسپتال سے نکلتے وقت اس کی طبعیت خراب ہوگئی ۔ اسے دوبارہ آئی سی یو میں داخل کرکے ضروری علاج کے بعد مزید بہتر علاج کے لئے منی پال روانہ کیا گیا ۔ وہاں پہنچنے پر ڈاکٹروں نے اس کی موت واقع ہونے کی تصدیق کر دی ۔ اس تعلق سے تمام دستاویزی ثبوت ہم نے پولیس کو دئے ہیں ۔ اسپتال کا نام خراب کرنے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی ۔ اس طرح کی حرکتوں سے چھوٹے چھوٹے شہروں میں مریضوں کو اچھا علاج ملنا مشکل ہو جائے گا ۔ انہیں معمولی امراض کے لئے بھی بڑے اسپتالوں کا رخ کرنے کی صورت حال پیدا ہوگی ۔

اس موقع پر آئی ایم اے کی سیکریٹری ڈاکٹر ونائیک رائیکر، ڈاکٹر رنگ ناتھ پوجاری، ڈاکٹر ممتا اور ہوناور تعلقہ کے تمام پرائیویٹ اسپتالوں کےڈاکٹر موجود تھے ۔ 


Share: